خداوند خدا

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اصطلاح توریت: خداوند تعالٰی، مالک، خدا۔ "خداوند خدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لیے اچھا تھا زمین سے اُگایا"      ( ١٩٨٢ء، نوید فکر، ٢٥٠ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'خداوند' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'خدا' لگانے سے مرکب 'خداوند خدا' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٨٢ء کو "نوید فکر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اصطلاح توریت: خداوند تعالٰی، مالک، خدا۔ "خداوند خدا نے ہر درخت کو جو دیکھنے میں خوشنما اور کھانے کے لیے اچھا تھا زمین سے اُگایا"      ( ١٩٨٢ء، نوید فکر، ٢٥٠ )

جنس: مذکر